مسلم لیگ ق کی تقسیم کا معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچ گیا

چودھری شجاعت حسین نے انٹراپارٹی انتخابات رکوانے کيلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارٹی صدر اور سیکرٹری جنرل کی اجازت کے بغیر 10 اگست کو انٹرا پارٹی الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن ہنگامی بنیادوں پر کل درخواست سماعت کيلئے مقرر کرے۔

چوہدری شجاعت حسین نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن ہنگامی بنیادوں پر کل درخواست سماعت کيلئے مقرر کرے اور محرم کی چھٹیوں کی وجہ سے انٹرا پارٹی الیکشن روکنے کا حکم جاری کیا جائے۔

انٹراپارٹی انتخابات رکوانے کيلئے الیکشن کمیشن میں دائر درخواست میں مسلم لیگ ق کے چیئرمین مرکزی الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 27 جولائی کو مسلم لیگ ق کی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر قرار داد منظور کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت اور طارق بشیر چیمہ کو جنرل سیکریٹری کے عہدوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا۔

مسلم لیگ ق کی مجلس عاملہ اجلاس میں چوہدری شجاعت حسین اور طارق بشیر چیمہ کو عہدوں سے ہٹانے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کو ق لیگ کا سربراہ بنانے کی بھی سفارش کی گئی۔

اجلاس میں 10 روز میں مسلم لیگ ق انٹرا پارٹی الیکشن کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا جس میں پارٹی کے نئے صدر اور سیکریٹری جنرل کا انتخاب ہوگا۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے حکومتی اتحاد کی حمایت اور ڈپٹی اسپیکر کو لکھے گئے خط کے معاملے پر ق لیگ کے سربراہان میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں جبکہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کے بیٹے سالک حسین مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت پی ڈی ایم اتحاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.