منی لانڈرنگ کا شریک جرم کیسے صادق اور امین ہوسکتا ہے؟، مصدق ملک

وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا ہے 290 سال کی سزا ملنے والے مجرم کا دوست اور 250 ڈالر کی منی لانڈرنگ کا شریک جرم کیسے صادق اور امین ہوسکتا ہے؟، کابینہ میں سیل ڈاکیومنٹ پر سائن کروانے والے شہزاد اکبر مجرم نہیں تھے تو کیوں فرار ہوئے؟، اب عمران خان کے فرار کا وقت ہے۔

وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کا احتساب کرنے والا شہزاد اکبر خود ملک سے فرار ہوگیا، فنانشل ٹائم نے عارف نقوی کی منی لانڈرنگ کو بے نقاب کیا، عارف نقوی نے عمران خان کو کالا دھن فراہم کیا، برطانیہ میں پکڑی گئی 250 ملین کی منی لانڈرنگ کا پیسہ عمران خان نے بحریہ ٹاؤن کو واپس کردیا۔

وزیر مملکت نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تو 250 کنال کے بڑے گھر میں کیسے رہتے ہیں، امریکی عدالت سے عمران خان کے دوست عارف نقوی کو 290 سال کی سزا ملنے کی باتیں کی جارہی ہیں، عارف نقوی نے عمران خان کو 250 ملین ڈالر دیئے تو پھر وہ کیسے صادق اور امین ہوسکتے ہیں؟۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پکڑی گئی 250 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کا پیسہ 2019ء میں عمران خان کی حکومت کے دوران بحریہ ٹاؤن کو دیدیا گیا، جس کے بدلے میں 2020ء میں بحریہ ٹاؤن نے ایک ٹرسٹ کو زمین منتقل کی، جس کے ٹرسٹی عمران خان اور ان کی اہلیہ ہیں، شہزاد اکبر ملک سے فرار ہوچکے ہیں اور لگتا ہے کہ اب عمران خان کے فرار کا وقت آچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا وقت ہے لیکن شاید یہ پکڑ دھکڑ پاکستان میں نہ ہو۔

مصدق ملک نے کہا کہ ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی منی لانڈرنگ کے حوالہ سے فنانشل ٹائم میں اداریہ لکھنے والے شخص نے ایک کتاب ‘‘دی کی مین’’ The key Man بھی تحریر کی ہے جس میں عمران خان اور ان کے دوست عارف نقوی اور ان کی کمپنیوں کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود میاں نواز شریف غدار اور نااہل ہیں جبکہ 2 ملین ڈالر میں بکنے والا صادق و امین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب عارف نقوی کو ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تو اس نے واضح طور پر کہا کہ میرے بارے میں صدر پاکستان سے بات کی جائے، بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونیوالے کرپش اور منی لانڈرنگ کے ثبوتوں کے بعد میرا مشورہ ہے کہ اچھا وکیل کرلیں شاید اس کیس کیلئے آپ کو مرضی کا جج نہ مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.