برطانیہ سے41ارب روپے کی پاکستان منتقلی، خصوصی اجلاس کل طلب

برطانیہ سے 41 ارب روپے پاکستان منتقل ہونے کے معاملے پر کابینہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس کل طلب کر لیا گیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں احمد علی ریاض اینڈ فیملی اور بحریہ ٹاون کے اکاونٹس منجمند ہونے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس میں دفاع، خزانہ، قانون و انصاف، داخلہ اور مواصلات کے وزراء شرکت کریں گے جبکہ وزیر مملکت خارجہ امور، پیٹرولیم، وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر کو خصوصی دعوت نامہ جاری کردیا گیا ہے۔

سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری داخلہ کو بھی خصوصی دعوت نامہ جاری کیا گیا ہے جبکہ اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکریٹری خارجہ کو بھی بلا لیا گیا۔

اجلاس میں شرکاء اس بات پر غور کریں گے کہ فنڈز برطانیہ سے پاکستان کس اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے اور کہاں استعمال ہوئے۔

مبینہ ملی بھگت کی تحقیقات

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کابینہ اجلاس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اس وقت کی حکومت کی ملک ریاض سے ضبط رقم کو پاکستان منتقل کرنے کے حوالے سے ڈیل کے بارے میں ایک خفیہ دستاویز منظر عام لائے تھے اور اس حوالے سے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے مبینہ طور پر 19 کروڑ پاؤنڈز (50 ارب روپے) کے ضبط شدہ فنڈز کی واپسی کے لیے کک بیکس کی مد میں 5 ارب روپے لیے جو مبینہ طور پر برطانیہ بھیجے گئے تھے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ ریاست کے نگہبان ہونے کے ناطے اس رقم کی حفاظت سابق وزیر داخلہ کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے ضبط شدہ رقوم کی واپسی کا انتظام کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ برطانیہ سے آنے والی رقم کی منتقلی کے عوض معاہدے کے تحت بحریہ ٹاؤن نے 458 کنال قیمتی اراضی القادر ٹرسٹ کو عطیہ کی۔ اس معاہدے پر بحریہ ٹاؤن کے ساتھ دستخط کرنے والی شخصیت سابق خاتون اول بشریٰ بی بی تھیں کیونکہ القادر ٹرسٹ کے 2 ہی ٹرسٹی ہیں ایک عمران خان اور دوسری بشریٰ بی بی۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ القادر ٹرسٹ کی طرح بشریٰ بی بی کی دوست فرحت شہزادی کو بھی بنی گالہ میں 240 کنال زمین دی گئی۔

رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.