مخالفین کی گالیوں اور دھمکیوں سے نہ ڈرکر بلدیاتی انتخاب جیتنے والی مزدور کی بیٹی

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 اضلاع میں 26 جولائی کو پولنگ ہوئی تھی، جس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تاہم سندھ کی حکمران جماعت کے ایک امیدوار کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سندھ کے ضلع خیرپور کی یونین کونسل جیلانی سے کونسلر کی جنرل نشست پر کامیاب ہونیوالی آزاد امیدوار پروین شیخ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو بھاری مارجن سے شکست دے کر سب کو حیران کردیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق خیرپور کی 6 بچوں کی ماں پروین شیخ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے والد پہلے گدھا گاڑی چلاتے تھے آج کل وہ بازار میں پتھارے میں بچوں کے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتے ہیں جبکہ پروین کے شوہر ایک وفاقی ادارے میں نچلی سطح پر ملازم ہیں۔

پروین شیخ نے خود پرائمری تک تعلیم حاصل کی ہے تاہم وہ مقامی سطح پر فلاحی کاموں سے منسلک رہی ہیں۔

پروین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ غریبوں کی حالت دیکھتی تھیں تو اُنھیں دکھ ہوتا تھا اور وہ سوچتی تھیں کہ ان کی کیسے مدد کریں، پھر انہوں نے سوچا کہ سیاست کے ذریعے ہی ایسے لوگوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔

پروین شیخ ضلع خیرپور کے علاقے سلیم آباد سے وارڈ کے الیکشن میں 430 ووٹ لے کر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ انکے مخالف پیپلزپارٹی کے امیدوار کو صرف 190 ووٹ ہی مل سکے۔

خیرپور میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل بڑی جماعتوں کے طور پر موجود ہیں، سابق وزرائے اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سید غوث علی شاہ کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے جبکہ جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام میں سید قائم علی شاہ کی بیٹی اور موجودہ رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ یہاں سے ضلعی ناظم رہ چکی ہیں۔

پروین شیخ جس علاقے سے انتخاب جیتی ہیں، وہ ایک غریب آبادی ہے، جس میں مرد محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ خواتین کارخانوں اور گھروں میں کھجور کی صفائی کا کام کرتی ہیں۔

پروین کے مطابق اس علاقے میں سیوریج کا کوئی نظام نہیں، بجلی دستیاب نہیں کیونکہ غریب لوگ بل ادا نہیں کرسکتے، اس لئے حیسکو والے پی ایم ٹی نہیں لگاتے، اس کے علاوہ یہاں پینے کا پانی تک نہیں آتا اور لوگ 15 لیٹر پانی کی بوتل 20 سے 25 روپے میں خریدتے ہیں، یہ وہ مسائل ہیں جن کو لے کر وہ میدان میں اتریں۔

پروین کہتی ہیں کہ جب سے انہوں نے نامزدگی فارم جمع کروایا، تب سے ہی اُن کی کردار کشی شروع کردی گئی تھی۔ ’’مخالفین نے میرے خلاف غلط غلط باتیں پھیلائیں، گندی گالیاں دی گئیں، رات کو ہم سوتے تھے تو دروازے پر آکر اونچی آواز میں گالیاں دیکر جاتے تھے، لاؤڈ اسپیکر پر بھی برا بھلا کہا جاتا تھا، میں نے ووٹوں کی اپیل کیلئے پینا فیلکس لگانے کی کوشش کی تو وہ بھی نہیں لگانے دیتے تھے یا اتار دیتے تھے تاکہ میں اپنی مہم نہ چلا سکوں۔

بی بی سی کے مطابق پروین نے بتایا کہ مجھے کہتے تھے تم عورت ہو سیاست کرکے کیا کرو گی، گھر میں بیٹھو۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ مقامی سیاستدانوں سے لے کر افسران تک نے انہیں کہا کہ دستبردار ہو جاؤ اور مبینہ طور پر پیسوں کی لالچ بھی دی گئی، جب بات نہیں بنی تو پھر دھمکایا بھی گیا لیکن وہ نہ مانیں۔

پروین شیخ کے مطابق وہ مہم کیلئے گھر گھر جاتی تھیں اور لوگوں سے ووٹ کی درخواست کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ آپ ہماری پڑوسی ہو ہماری طرح غریب کی اولاد ہو اور ہماری بچی ہو، ہم آپ کا ساتھ دیں گے ہم نے وڈیروں اور بڑے لوگوں کو کئی بار ووٹ دیئے اب ہم اپنے غریبوں کو ووٹ دیں گے۔

بلدیاتی الیکشن جیتنے والی پروین شیخ کہتی ہیں کہ ان کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے جن کی الیکشن مہم رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ بھی چلارہی تھیں، میرے شوہر مہم میں نہیں جاتے تھے جبکہ بھائی اور دیور پریشان رہتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مجھے لوگ پسند کررہے ہیں اور حمایت کرتے ہیں تو پھر اُن کا بھی حوصلہ بلند ہوگیا۔

پروین شیخ کے خاندان میں کبھی کسی نے سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ بقول ان کے ان کی جیت پر انہیں رونا آرہا تھا، انہوں نے خود تو کنٹرول کرلیا لیکن والد آنسو بہاتے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.