اسحاق ڈار کی جولائی میں پاکستان آنے کی تصدیق

سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے وطن واپسی کی تصدیق کردی۔ بی بی سی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ جولائی میں پاکستان آرہا ہوں، واپس آکر بطور سینیٹر حلف اٹھاؤں گا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار 2017ء سے لندن میں مقیم ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اگلے ماہ پاکستان واپسی کا ارادہ تقریباً کنفرم ہے، صحت کو درپیش چند مسائل کا علاج اگلے 10 سے 12 روز میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اُن پر پاکستان میں ایک ہی کیس ہے، عمران خان کی جانب سے دائر کیا جانے والا مقدمہ جعلی ہے۔

واضح رہے کہ ستمبر 2017ء میں احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں ان پر ایک مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، جس کے چند روز بعد اسحاق ڈار سعودی عرب چلے گئے تھے، جہاں سے وہ برطانیہ روان ہوگئے، اس وقت ملک میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم تھی۔

اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ اُن پر جو جعلی کیس بنایا گیا اس کی کوئی بنیاد نہیں، انہوں نے کہا کہ یہ میرے ٹیکس ریٹرن پر بنایا گیا، میں ایسا شخص ہوں جو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں کبھی تاخیر نہیں کرتا۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے انٹرپول کے ذریعے مجھے پاکستان واپس لانے کیلئے رابطہ کیا تاہم جو دستاویزات انٹرپول کو دی گئیں ان میں کوئی جان نہیں تھی، اس لئے عالمی ادارے نے مجھے کلین چٹ دیدی۔

وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فیصل پارٹی اور قیادت کا ہوگا کہ کس شخص کو کیا ذمہ داری دینی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.