افغانستان میں شدید زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار ہوگئی thumbnail

افغانستان میں شدید زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار ہوگئی

افغانستان کے مشرقی علاقوں میں 6.1 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی، مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت دیگر واقعات میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں آنیوالے والے زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 6.1 تھی اور اس کا مرکز خوست شہر سے 44 کلومیٹر دور تھا جب کہ اس کی گہرائی 51 کلومیٹر تھی۔

افغانستان میں بڑے جانی نقصان پر طالبان امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزاہ کی جانب سے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

قبل ازیں ڈپٹی وزیر برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ نے پریس کانفرنس کے دوران 950 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔

وزارت داخلہ کے عہدیدار صلاح الدین ایوبی کا کہنا ہے کہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کچھ گاؤں دور دراز پہاڑی علاقوں میں ہیں اور معلومات اکٹھی کرنے میں وقت لگے گا۔ افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے امدادی کارروائیوں کے لیے ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔

صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا کہ حکام نے ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے اور زخمیوں تک رسائی اور انہیں طبی سامان اور خوراک کی فراہمی کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

بدھ کی صبح موصول طلاعات کے مطابق برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے امریکی جیولوجیکل سروے کے حوالے سے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب آنے والے زلزلے نے پاکستان اور افغانستان کے گنجان آبادی والے علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

طالبان انتظامیہ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ محمد نسیم حقانی نے زلزلے میں کم از کم 130 اموات کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خوست میں 25 اور ننگرہار میں 5 افراد جاں بحق ہوئے البتہ مزید ہلاکتوں کا پتا لگانے کیلئے تحقیقات جا رہی ہیں۔

متعدد عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں 950 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ سیکڑوں زخمی ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ پکتیکا میں ہوئی ہیں۔

گزشتہ رات آنے والے زلزلے سے مشرقی افغانستان کے علاقوں میں مکانات بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے اور ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

یورپیئن مڈٹرینئن سیسمولوجیکل سینٹر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان میں 500 کلومیٹر کے رقبے پر 11کروڑ افراد نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔ زلزلے کے جھٹکوں سے کچے مکانات اور عمارتوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔

وزیر اعظم کا اظہار افسوس

وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم میاں نے کہا ہے کہ دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں ہم اپنے افغان بھائی بہنوں کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

دفتر خارجہ

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں افغانستان میں زلزلے سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور عوام افغانستان کے صوبہ پکتیکا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے المناک زلزلے اور ملک بھر کے مختلف صوبوں میں آنے والے طوفانی سیلاب سے ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع اور املاک کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ برادر افغان عوام اپنی صلاحیتوں کی بدولت اس قدرتی آفت کے اثرات پر قابو پا لیں گے۔

صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے افغانستان میں زلزلے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پردکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری ہمدردیاں زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہیں، زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے لیے دعا گو ہوں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے ٹوئٹر پر کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں جانی نقصان پر میری دعائیں اور ہمدردیاں افغان عوام اور حکومت کے ساتھ ہیں، میں نے خیبرپختونخوا حکومت کو ہر قسم کی امداد خصوصاً طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایات دے دی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.