تحریک عدم اعتمادپرووٹنگ سےقبل مارشل لاء کی دھمکی ملی،بلاول thumbnail

تحریک عدم اعتمادپرووٹنگ سےقبل مارشل لاء کی دھمکی ملی،بلاول

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے ایک رات پہلے اس وقت کےوفاقی وزیر نے مارشل لاء لگانے کی دھمکی دی تھی۔ انھوں نے معاملات حل نہ ہونے کی صورت میں اگلا الیکشن خونی ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پہلی بار آئینی جمہوری طریقے سے حکومت کو ہٹایا گیا، جہاں دیکھیں ایک بحران موجود ہے، ایسے سیاسی حالات جب بنتے ہیں جب جنگی حالات ہوں، حالیہ صورتحال سے ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 3 اپریل سے اب تک آئین پر جو حملے ہورہے ہیں اس پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، ہمیں غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل میں شامل افراد کے لیے کمیشن بنانا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پہلے اصلاحات پھر انتخابات، ہم جمہوری قوت ہیں ، ہم ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات چاہتے ہیں، ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ کوئی غیر آئینی اقدام تسلیم نہیں کریں گے
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں نظر انداز نہیں کرناچاہیے کہ ملک میں اداروں پر حملے کیے گئے ، احتساب اور کرپشن کی باتیں سن کر ہمارے کان پک چکے ہیں، 4 سال چور چور کا شور مچاتے رہے لیکن کسی کو سزا نہیں دلوا سکے اور خود چور نکلے۔

بلاول بھٹو نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ سابق وزیراعظم کے اپنے خزانے کیسے بڑھے،کیا ہم سابق وزیر اعظم کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ جو چاہے بول دے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو تاہم ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ عمران خان کی یہ سازش ناکام ہو۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے 2 پہلو ہیں، سب سے پہلے تمام غیر جمہوری صدارتی آرڈیننس کو ختم کرنا پڑے گا۔ سی او ڈی اور سی او ڈی ٹو اپنی جگہ لیکن اگر معاملات حل نہ کئے گئے تو اگلا الیکشن خونی ہوگا کیوں کہ جب ہم اصلاحات پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو کیا پھرصرف بندوق اٹھانا رہ جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا جمہوری نظام ہے،ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے سب کو بنیادی اصول اپنانا ہوگا، ہمیں بنیادی ضابطہ اخلاق تیار کرنا ہوگا، ایسا فریم ورک تیار کیا جائے کہ تمام ادارے جمہوری اور آئینی انداز سے کام کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.