پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد جہانگیر ترین کی پاکستان واپسی thumbnail

پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد جہانگیر ترین کی پاکستان واپسی

ترین گروپ کے سربراہ جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی حکومت ختم ہونے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں، وہ کئی ماہ سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم تھے۔

جہانگیر ترین برطانیہ نے دو ماہ سے زائد عرصے تک برطانیہ میں قیام کیا۔ رکن ترین گروپ سلمان نعیم کے مطابق جہانگیر ترین اور علی ترین دبئی سے لاہور پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہانگیر ترین ذاتی معالحین کی اجازت کے بعد پاکستان واپس آئے ہیں۔

واضح رہے کہ جہانگیر ترین علالت کے باعث پہلے لاہور میں زیر علاج رہے بعد ازاں وہ برطانیہ علاج روانہ ہوگئے تھے۔

وہ چند ماہ قبل لندن گئے تھے وہاں پر ڈاکٹرز کے زیر علاج رہنے کے بعد سفر کی اجازت ملنے پر کچھ روز قبل دبئی پہنچے۔ دبئی میں کچھ روز قیام کی بعد جہانگیر ترین لاہور پہنچے۔ جہانگیر ترین نے علالت کے دوران فون کرکے خیریت دریافت کرنے اور دعائیں کرنے والے احباب کا شکریہ ادا کیا ہے۔

وطن واپسی سے متعلق جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ وہ جلد سیاسی معاملات پر ساتھیوں کے ساتھ مشاورت اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کریں گے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعلٰیٰ پنجاب کے حالیہ الیکشن میں جہانگیر ترین گروپ کے ارکان نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار چوہدری پرویز الہیٰ کے مقابلے میں حمزہ شہباز کی حمایت کی تھی۔ جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما اور چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔

سال 2018 کے عام انتخابات میں جہانگیر ترین سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کی وجہ سے عام انتخابات میں حصہ تو نہ لے سکے لیکن حکومت سازی کے مرحلے میں جہانگیر ترین نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور جوڑ توڑ کے ذریعے متخب ارکان کو پی ٹی آئی کو شامل کرانے میں کامیاب رہے۔

حکومت بننے کے بعد وزیراعظم نے مختلف ٹاسک فورسز قائم کیں جس میں جہانگیر ترین کو زراعت کے شعبے کی ٹاسک فورس کا کنوینر مقرر کیا گیا تھا۔

تاہم حکومت بننے کے بعد ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا اور جس کی وزیراعظم نے ایف آئی اے سے انکوائری کروائی تو جہانگیر ترین کی شوگر ملز بھی چینی بحران کی ذمہ دار قرار پائیں۔ اس کے بعد عمران خان نے جہانگیر ترین سے پارٹی عہدہ واپس لینے کے بعد حکومت سے ان کو علیحدہ کردیا اور ان کے خلاف ایف آئی اے میں کیسز درج ہوگئے۔

ترین گروپ

ترین گروپ کا کردار ایک بار پھر اس وقت اُبھر کر سامنے آیا جب مرکز میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع ہوئی۔

جہانگیر ترین کا شمار عمران خان کے اُن قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا جو ان کی ذاتی رہائش گاہ بنی گالہ تک اثرورسوخ رکھتے تھے۔ لودھراں سے تعلق رکھنے والے جہانگیر ترین 2011 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور رفتہ رفتہ عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگے۔

سال 2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی پوری انتخابی مہم کی ذمہ داریاں جہانگیر ترین اور اسد عمر کے سپرد تھیں۔ سال 2014 میں تحریک انصاف کے 126 دن کے دھرنے میں بھی جہانگیر ترین کا اہم کردار رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.